September 29, 2014

سیہ کا شکار

Seh ka shikar



اس سے قبل ہماری شکاری مہمات کا احوال آپ پڑھ چکے ہیں جس سے ہماری حس شکار آپ پر بخوبی آشکار ہو چکی ہو گی لیکن تمام تر بزدلانہ رجحانات و طبعیت رکھنے کے باوجود میں کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی نئی جگہ جانے کو تیار رہتا ہوں اور اسی ذہنی آوارہ پسندی نے وہ گل کھلائے جو آپ اکثر میرے بلاگوں میں پڑھتے رہتے ہیں۔

مانا کہ اولاد اللہ کی رحمت ہے لیکن صرف اپنی۔ پرائی تو نری زحمت ہے خواہ وہ آپ کے کزن ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک روز چند کزن آئے اور مجھے پیشکش کی کہ آج شکار کا پروگرام ہے چلو گے؟میں نے پوچھا کس کی شامت آئی ہے تو جواب ملا سیہ کے شکار کو جارہے ہیں۔ میں نے سوچا واہ جی واہ۔ نہ مرنے کا خطرہ، نہ زخمی ہونے کا ڈر، نہ تیر اندازی نہ چاند ماری میں نے حامی بھر لی۔ حکم ملا کہ رات کو دس بجے تیار رہنا۔ میں نے تفصیل پوچھی نہیں اور انہوں نے بتائی نہیں۔ میں غلط سمجھا شاید کہیں دور جانا ہے رات کو کزن کے گھر رہیں گے اور صبح تاخیر سے نکلنے کے خوف سے سب ایک جگہ رہیں گے تاکہ صبح سویرے ہی گھر سے نکل جائیں کیوں کہ آج کل کی نوجوان نسل کی طرح ہمیں بھی صبح اٹھنا عذاب لگتا ہے۔ وہ غلط سمجھے شاید مجھ میں ہمت ہو نہ ہو سمجھ تو کم از کم ہو گی اور مجھے سیہ کے شکار کی تفصیل پتہ ہوں گی۔

سیہ (انگریزی porcupine)  سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔ نہیں واقف تو تصویر دیکھ لیں ۔ بس حوصلہ یہ تھا کہ ٹخنے ٹخنے مخلوق ہمارا کیا بگاڑ سکتی ہے۔

سیہ 
لیکن جب رات کو دس بجے سب لوگ پہنچے تو پتہ لگا کہ شکار رات کو ہو گا، رات کو شکار کا منصوبہ بھی اتنا خوفناک نہ تھا جتنا اگلی خبر تھی کہ شکار ہو گا بھی قبرستان میں۔ ہو گیا شکار میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ میں تو دن کو کسی کے ساتھ قبرستان سے پاس سے گزرتے ڈرتا ہوں کجا اندھیرے میں جانا اور وہاں شکار کھیلنا۔ لیکن اپنی نام نہاد عزت کو بچانے کے لیے جو پہلے ہی تار تار ہو چکی تھی بادل نخواستہ حامی بھر لی۔

ایک کزن کے پاس دو نالی بندوق تھی جبکہ باقیوں نے ہاکیاں اور ڈنڈے اٹھائے ہوئے تھے جبکہ میرے خیال میں تو ڈنڈوں سے زیادہ تعویزوں کی ضرورت تھی،بندوق سے زیادہ کارآمد آیت الکرسی کا لاکٹ تھا اور ہاکیوں سے زیادہ کارگر رد بلا کا امام ضامن تھا۔ لیکن بھلا پہلے کسی نے اس فقیر کو منہ لگایا ہے جو آج میری رائے پوچھی جاتی اور ویسے بھی اگر پوچھی بھی جاتی تو ہمارے دینی رجحان کو ہماری بزدلی کا نام دے کر مذاق ہی اڑا جایا تھا لہذا اللہ کے ہر کام میں بہتری ہی ہوتی ہے۔

ایک بار ایک گورکن کا انٹرویو پڑھا تھا جس میں اس نے کہا تھا اندھیری راتوں سے زیادہ چاندنی راتوں میں قبرستان میں ڈر لگتا ہے اور اس رات کو میں قبرستان میں اندھیری رات گزارے بغیر چاندنی رات کی خوفناکی پر ایمان لے آیا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ قبرستان میں قبروں کے سنگ مرمر کے بنے تعویذ چمک رہے تھے اور ایک دم ٹھنڈ اتنی بڑھی کہ میری ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئیں۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی محسوس نہ کر لے کہ میں کانپ رہا ہوں کہ میرے کزنوں کو کیا پتہ میرا پیدائشی فشار خون یعنی بلڈ پریشر نچلے درجے پر ہوتا ہے وہ تو یہی سمجھتے کہ ڈر سے کانپ رہا ہوں تو میں نے ہلکا ہلکا ٹہلنا شروع کر دیا۔

ابھی چند قدم ہی بھرے ہوں گے کہ غصے بھری سرگوشی سنائی دی کہ کیا کمپنی باغ میں سیر کو آئے ہو ؟ سکون سے ایک جگہ ٹھہر جاؤ۔ غصہ اس بدتمیزی پر بڑا آیا لیکن بڑوں کا دل بڑا ہوتا ہے سوچ کر چپ رہا۔ اب سکون کی جگہ جو تھی وہ کم از کم اس قبرستان میں تو نہ تھی لیکن دل پر جبر کر کے ایک درخت کی اوٹ میں جو میرے نام نہاد شکاری کزنوں کے قریب ترین تھا اپنے آپ کو حوصلہ دیتے بیٹھ گیا لیکن حوصلہ کیا خاک دینا تھا کہ دماغ میں تمام جنوں بھوتوں کی کہانیاں گھسی جا رہی تھیں۔ دل ہی دل میں خود کی پڑھنے کی لت کو گالیاں بکنے لگا کہ کیا موت آئی تھی کہ چھوٹے ہوتے جنگ اور خبریں سنڈے میگزین (پہلے جمعہ میگزین) کی ڈروانی کہانیوں والا صفحہ کا ایک لفظ نہیں چھوڑا اب بھگتو اور دیکھو کہ بکری چڑیل بن جائے، یہ درخت پیچھے سے لپیٹ لے یا کوئی کزن ہی پچھل پیری بن جائے۔ ویسے کزنوں والے معاملے پر تو مجھے یقین بھی تھا کہ یہ پچھل پیریاں ہی ہیں انسانی روپ میں ۔

ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ خوف کو یا پریشانی کو بھگانے کا سب سے آسان طریقہ ہے کہ اس کا سامنا کرو۔میں نے اس نام نہاد دانشور اور سیانے کوے کو چار آٹھ گالیاں نکالیں اور کوئی اور اچھی بات یاد کرنے لگا ۔ مجھے یاد آیا فیس بک پر ایک بار کسی نے شئیر کیا تھا کہ خوف کو بھگانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ خوف کو بھلا دو۔ ڈر میں ، پریشانی میں یہ سوچو کہ اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہو اور اپنے پسندیدہ ٹی وی پروگرام سے لطف اندوز ہو رہے ہو۔ میں نے دل ہی دل میں مارک زرق برق یعنی مارک زرک برگ Mark Zuckerberg کو دعائیں دیں کہ مشکل میں آخر فیس بک ہی کام آیا جس کی خاطر دن میں چار بار اپنے والدین سے عزت افزائی کراتے ہیں۔ میں نے درخت سے پشت ٹکائی اور سوچنے لگا کہ سامنے پوگوPogo چینل چل رہا ہے۔ لیکن میرے پلنگ پر چونٹیاں اور مکوڑے تو ہرگز نہیں پائے جاتے اور پوگو چینل دیکھتے وقت ٹانگیں تو جسم ہلکے ہلکے نہیں کانپتا اور صوفے سے یہ بھی ڈر نہیں لگتا کہ اس پر کوئی ڈائن دانت تیز کر رہی ہو گی۔

میں نے یہودی سازش فیس بک پر بھی تین حرف بھیجے اور دل ہی دل میں سوچا کہ اونا ہنجار اور بے وفا شخص۔ یہ سیہ تیری کئی نسلوں کی دشمن ہے؟ نجانے کتنے تیرے آبا کا خون چوس چکی ہے ہڈی ہڈی چچوڑ چکی ہے، سر پیر ایک کرچکی ہے کیا تجھ میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ اس کمینی مخلوق کی کمینی خوشیوں کو لگام ڈال سکے؟ حضرت انسان ہو کر سیہ جیسی مخلوق کے سامنے ڈرنے والے جنگلی چوہے کچھ تو شرم کر۔

میں چونکہ جذباتی ہرگز نہیں لہذا میں نے جوابی دلائل تیار کرنا شروع کیے کہ غیرت کا قتل ویسے ہی ہماری عدالتوں میں جرم قرار دیا چکا ہے اور غصہ اللہ میاں نے حرام قرار دیا ہے۔ باقی جہاں تک میرے آبا سے بدسلوکی کی بات ہے تو ایک تو میرے آبا اس قبرستان میں دفن نہیں اور اگر ہیں تو میں اس کو معاف کرتا ہوں کہ اسلام میں معافی کا بڑا درجہ ہے۔ دل ہی دل میں مجھے احساس ہوا کہ میں نے ایک لمحے میں کتنی نیکیاں کما لی ہیں۔

ابھی میں ان نیکیوں کے عوض خود کو ولی اللہ سے کوئی ایک آدھ فٹ دور درجے پر محسوس کر ہی رہا تھا کہ میرے کزن بھاگتے ہوئے گزرے اور کسی ایک نے میرے بازو سے پکڑ کر مجھے بھی کھینچا۔ میں ایسا بوکھلایا کہ ڈنڈا جو میرےہاتھ میں تھا وہیں رہ گیا۔ جب سامنے پہنچے تو دو سیہ فرار کا رستہ تلاش کررہی تھیں اور صاف روشنی نہ ہونے کے باوجود ان کے کانٹوں کی نوکیں صاف نظر آرہی تھیں۔ میں ڈر کے مارے کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ کچھ کی تفصیل یہ ہے کہ آیت الکرسی پڑھتا تو معوذتین پر آ ختم کرتا اور کوئی دعا عربی میں شروع کرتا تو مارکیٹینگ کی تھیوری پر اختتام پذیر ہوتی۔ میرے دو کزن بیک وقت سیہ پر جھپٹے اور میں نے دل ہی دل میں عدم تشدد جس کو عرف عام میں ڈر کہتے ہیں کو کوسنا چالو کر دیا کہ آخر میں ایسا کیوں ہوں۔

ایک سیہ نے میری طرف دوڑ لگائی اور میں نے خوف کے مارے سانس روک لی۔ آنکھیں میچنے کے باوجود مجھے صاف نظر آرہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اس کو ہاکی گھما کر ماری اور ایسی ماری کہ اگر کوئی اچھا وقت ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ بھائی دے گھما کہ اسے کہتے ہیں لیکن ادھر سانس رکا جاتا جاتا تھا۔ یاد آیا ایک بار برف باری میں مجھے ٹھنڈے یخ پانی سے نہانا پڑا تھا تب بھی ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا کہ سانس نہیں آتا تھا اور جسم ایسے کانپتا تھا جیسے ملیریا ہوا ہو۔

سیہ کا شکار اور سیہ کی عادات جاننے والے جانتے ہیں کہ سیہ خوف میں کانٹے چھوڑتی ہے جو اڑتے ہوئے ادھر ادھر جاتے ہیں۔ بس سییہ نے کانٹے چھوڑے جن میں سے کچھ مجھے آ لگے۔ میں نے چیخ ماری ۔ میں جو ٹیکے کی سوئی سے ایسا ڈرتا تھا کہ اب بھی کسی ڈاکٹر سے دوا لیتے پوچھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب اس میں ٹیکہ تو نہیں گال میں اور ٹانگ میں سیہ کے کانٹے چبھوا چکا تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، نہ سیہ کا خیال کی جو زخمی شیرنی سی ادھر ادھر گھوم رہی تھی نہ اپنے انسانیت سوز وحشی کزنوں کا خیال کیا جو اندھا دھند ڈنڈے چلا رہے تھے اور قبرستان کے باہری راستے کی طرف دوڑ لگائی۔ اور ایسی لگائی کہ یوسین بولٹ Usain Bolt بھی ہوتا تو نہ جیت پاتا ۔ کیا قبریں، کیا کیچڑ، کیا چار چار فٹ کچی مٹی سے بھری سڑک۔ ہوش تب آیا جب کسی گھر کا دروازہ کھڑکا رہا تھا۔ زندگی بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی تیزرفتاری پر خود ہی ہنسی آ گئی کہ آج تک ایسا نہیں بھاگا۔ ایک منٹ یاد آیا پہلے بھی ایسا ایک بار بھاگا تھا جب ایک ریچھ نما کتا ہمارے پیچھا بھاگا تھا۔